نوئیڈا، 5/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کروڑوں کے گھوٹالے میں پھنسے نوئیڈا اتھارٹی کے سابق انجینئر یادو سنگھ معاملے میں سی بی آئی جانچ سے بچنے کے لیے اکھلیش یادو کی حکومت نے سپریم کورٹ کے بڑے وکلاء پر تقریبا 21.15لاکھ روپے خرچ کئے تھے۔یہ انکشاف حق اطلاعات قانون (آرٹی آئی)کے ذریعے ہوا ہے۔یہ آرٹی آئی سماجی کارکن ڈاکٹر نوتن ٹھاکر نے دائر کی تھی۔اس کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی گئی ہے۔افسر برائے اطلاعات عامہ سریندر پال سنگھ نے نوتن کی آرٹی آئی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ سماج وادی حکومت نے سپریم کورٹ میں پیروی کے لیے 4سینئر وکلاء کو مقرر کیا تھا۔وہیں، نوتن کا کہنا ہے کہ یادو سنگھ جیسے داغدار افسر کو بچانے کے لیے ریاستی حکومت نے اتنی موٹی رقم خرچ کر دی۔اس کے ساتھ انہوں نے یہ رقم اس خرچ کے لیے ذمہ دار افسروں کے جیب سے وصولنے کی اپیل کی ہے۔غور طلب ہے کہ یادو سنگھ پر کروڑوں روپے کے گھوٹالے کا الزام ہے، سی بی آئی نے یادو سنگھ پر دفعہ 409، 420، 466، 467، 469، 481اور بدعنوانی روک تھام قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔الزام ہے کہ یادو سنگھ نے یوپی کے سب سے امیر محکمہ نوئیڈا اتھارٹی میں چیف انجینئر رہتے ہوئے کئی سو کروڑ روپے رشوت لے کر ٹھیکیداروں کو ٹینڈر تقسیم کیا تھا۔نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا ایکسپریس اتھارٹی کے انجینئر رہتے ہوئے یادو سنگھ کا سبھی طرح کے ٹینڈر اور پیسوں کے الاٹمنٹ بڑا کردار ہوتا تھا، جب اس کے ٹھکانے پر انکم ٹیکس محکمہ نے چھاپہ ماری کی تھی، تب وہاں اس کے پاس اربوں روپے کے بنگلے، گاڑیاں، شیئر، زیورات، زمین اور کمپنیوں کا پتہ چلا تھا۔